سورہ الانفال کا تعارف
اس سورت
مبارکہ کا نام سورہ الانفال ہے، جو کہ اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔ جس کے معنی
مال غنیمت کے ہیں۔ چونکہ سورت کا آغاز انفال یعنی مالِ غنیمت کے احکام سے کیا گیا
اور اس سورت کا بیشتر موضوع بھی یہی رہا ، اس لئے اس کا نام الانفال رکھا گیا۔اس
سورت میں 75 آیات مبارکات ہیں اور اس کے دس رکوع ہیں۔ جبکہ یہ آیت مدنی ہے۔
یہ
سورہ مبارکہ غزوئہ بدر کے فوراً بعد 2 ہجری میں نازل ہوئی ۔اسی لئے اس کا بیشتر
حصہ غزوہ بدر کے متعلق ہی ہے۔ اس سورت کے بنیادی موضوعات یہ ہیں۔
1۔
حق اور باطل کی جنگ
2۔ حق
کو باطل سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیئے۔
3۔
جنگ کا مقصد کسی پر حکومت کرنا یا مال غنیمت حاصل کرنا نہیں ہے ، بلکہ اس کا اصل
مقصد خدا کا قانون نافذ کرنا ہے۔
4۔ امن اور جنگ کے قانون واضع کرنا۔
5۔
اسلامی ریاست کا اس کی رعایا سے تعلق بیان کرنا، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔
اس
کے علاوہ اس سورت مبارکہ میں مسلمانوں پر یہ بھی واضع کیا گیا ہے کہ جو فتح بھی
تمہیں ملتی ہے اس میں محض تمہاری محنت اور بہادری شامل نہیں ہے، بلکہ اگر خدا
تعالیٰ تمہارے ساتھ نہ ہوتا ، تو تمہارے لئے اس جنگ کو جیتنا ممکن نہ ہوتا۔ اس کے
علاوہ مشرکین، یہودیوں اور قیدیوں سے بھی نہایت پر اثر انداز میں کلام کیا گیا
ہےاور انہیں نصیحت کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مال غنیمت کی تقسیم سے متعلق بھی
احکامات دیئے گئے ہیں۔ اور امن کے دور اور دوران جنگ ایسے رہنما اصول بھی بیان
کیئے گئے ہیں جو اسلام کی شان کو بڑھاتی ہے اور دنیا پر اسلام کی حقانی کو ثابت
کرتی ہے۔

No comments:
Post a Comment