About Me

My photo
I'm masters in Education, as well as enrolled in Ph.D in Education. I'm currently working at Government College for Women, Saudabad Malir, Karachi

Thursday, May 2, 2013

آیت نمبر 4 تا 8


آیت نمبر 4
معنی
الفاظ
یہ ہی
اولئک
ان کے لئے
لھم
درجے ہیں
درجٰت
ان کے رب کے پاس
عند ربھم
اور مغفرت ہے
و مغفرۃ
اور پاک رزق ہے/عزت کی روٹی ہے۔
و رزق کریم
آیت نمبر 5
جیسے نکالا
کما اخرجک
تمہارے رب نے
ربک
تمہارے گھروں سے
من بیتک
درست طریقے سے
بالحق
اور یقیناً ایک جماعت/گروہ
وان فریقاً
مومنوں کا
من المئومنین
اسے نا پسند کرتا تھا۔
لکرھون
آیت نمبر 6
جھگڑنے لگے تم سے
یجادلونک
حق بات میں
فی الحق
باوجود اس کے کہ وہ ظاہر ہو گیا تھا۔
بعد ما تبین
گویا کہ /جیسا کہ
کانما
دھکیلے جارہے ہیں
یساقون
موت کی طرف
الی الموت
اور وہ
وھم
اسے دیکھ رہے ہیں۔
ینظرون
آیت نمبر 7
اور جب
واذ
وعدہ کیا تم سے
بعدکم
اللہ نے
اللہ
دونوں میں سے ایک گروہ/جماعت
احدی الطائفتین
یقیناً تمہارا ہوگا
انھا لکم
اور تم چاہتے تھے۔
وتودون
کہ
اَن
بغیر جنگ کئے/بغیر شوکت کے
غیر ذات الشوکۃ
وہ تمہارا ہو جائے
تکون لکم
اور اللہ چاہتا تھا
و یریداللہ
کہ قائم کرے
ان یحق
حق
الحق
اپنے فرمان کے مطابق
 بکلمٰتہ
اور کاٹ دے
و یقطع
پیٹھ/جڑ
 دابر
کافروں کی
الکٰفرین
آیت نمبر 8
تاکہ سچ کو سچ
لیحق الحق
اور جھوٹ کو جھوٹ کردے
ویبطل الباطل
اور اگرچہ/گو کہ
ولو
ناخوش ہوں
کرہ
مجرم/کافر/مشرک
المجرمون


سورہ الانفال کا تعارف



سورہ الانفال کا تعارف
اس سورت مبارکہ کا نام سورہ الانفال ہے، جو کہ اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔ جس کے معنی مال غنیمت کے ہیں۔ چونکہ سورت کا آغاز انفال یعنی مالِ غنیمت کے احکام سے کیا گیا اور اس سورت کا بیشتر موضوع بھی یہی رہا ، اس لئے اس کا نام الانفال رکھا گیا۔اس سورت میں 75 آیات مبارکات ہیں اور اس کے دس رکوع ہیں۔ جبکہ یہ آیت مدنی ہے۔
یہ سورہ مبارکہ غزوئہ بدر کے فوراً بعد 2 ہجری میں نازل ہوئی ۔اسی لئے اس کا بیشتر حصہ غزوہ بدر کے متعلق ہی ہے۔ اس سورت کے بنیادی موضوعات یہ ہیں۔
1۔ حق اور باطل کی جنگ
2۔ حق کو باطل سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیئے۔
3۔ جنگ کا مقصد کسی پر حکومت کرنا یا مال غنیمت حاصل کرنا نہیں ہے ، بلکہ اس کا اصل مقصد خدا کا قانون نافذ کرنا ہے۔
4۔ امن اور جنگ کے قانون واضع کرنا۔
5۔ اسلامی ریاست کا اس کی رعایا سے تعلق بیان کرنا، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔
اس کے علاوہ اس سورت مبارکہ میں مسلمانوں پر یہ بھی واضع کیا گیا ہے کہ جو فتح بھی تمہیں ملتی ہے اس میں محض تمہاری محنت اور بہادری شامل نہیں ہے، بلکہ اگر خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ نہ ہوتا ، تو تمہارے لئے اس جنگ کو جیتنا ممکن نہ ہوتا۔ اس کے علاوہ مشرکین، یہودیوں اور قیدیوں سے بھی نہایت پر اثر انداز میں کلام کیا گیا ہےاور انہیں نصیحت کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مال غنیمت کی تقسیم سے متعلق بھی احکامات دیئے گئے ہیں۔ اور امن کے دور اور دوران جنگ ایسے رہنما اصول بھی بیان کیئے گئے ہیں جو اسلام کی شان کو بڑھاتی ہے اور دنیا پر اسلام کی حقانی کو ثابت کرتی ہے۔  

Followers